جناب عابدِؑ بیمار کے حضور ۔۔۔ عارف امام

جناب عابدِؑ بیمار کے حضور

اک صورتِ اظہار ہے زنجیر کی جھنکار
گویا کوئی تلوار ہے زنجیر کی جھنکار
تاراجیٔ دربار ہے زنجیر کی جھنکار
زنجیر کی جھنکار ہے زنجیر کی جھنکار

طاقت کے ہر اک وار کو بیمار نے کاٹا
باطل کی زباں کو اسی جھنکار نے کا ٹا

اندازِ وغا، پیکرِ تقریر میں دیکھا؟
ایسے کسی قصے کو اسا طیر میں دیکھا؟
الفاظ کو پیراہنِ شمشیر میں دیکھا؟
ایسے کسی بیمارؑ کو زنجیر میں دیکھا؟

پہلے تو تفاخر کیا لہجے کے علو پر
پھر طوق نے سجدہ کیا عابد کے گلو پر

قیدی تھا مگر جائے اماں بن گیا قیدی
آزادئ انساں کا نشاں بن گیا قیدی
پیاسا تھا پہ دریائے رواں بن گیا قیدی
بولا تو محمدؐ کی زباں بن گیا قیدی

اعجازِ امامت سے کہیں دور نہیں تھا
لا چار تھا، بیمار تھا، مجبور نہیں تھا

بیمار کے ہر زخم پہ قربان مری جان
ماتم ہے عبادت مری، ماتم مرا ایمان
عہدہ یہ بڑا ہے کہ ہوں اس گھر کا ثنا خوان
لیکن ہو مرے پاؤں کی بیڑی مری پہچان

بس یاد رہے ان کی مرے پاس، بہت ہے
زیور یہ غلامی کا مجھے راس بہت ہے

Related posts

Leave a Comment